ابنا: رپورٹ کے مطابق، مجلس اعلی اسلامی عراق کے صدر حجت الاسلام سید عمار حکیم نے 26 ویں وحدت اسلامی کانفرنس میں جو 27 جنوری کی صبح تھران میں منعقد ہوئی ولادت پیغمبر اسلام(ص) کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا: ھم اسلامی جمھوریہ ایران کا امام خمینی بزرگ (رہ) سے امام خامنہ ای تک اس کانفرنس کے انعقاد کے شکر گزار ہیں اور اس سلسلہ میں آیت الله اراکی کی زحمتیں بھی قابل قدر ہیں۔ عمار حکیم نے مزید کہا: ھمیں اسلام کے نشر اور معاشرہ کی اصلاح میں پیغمبراکرم(ص) سے متمسک ہونا چاھئے، حضرت محمد(ص) مصلح بزرگ تھے اور حضرت نے عشق وایمان کی بنیادوں کا اس راہ میں مظاھرہ کیا ہے۔ حجت الاسلام حکیم نے رسالت نبوی کی خصوصیتوں کی جانب اشارہ کیا اور کہا: سماجی عزت پیغمبروں کی خصوصیتوں میں سے ہے جس راستہ پر پیغمبر اسلام(ص) بھی چلے اور آپ نے غار حرا میں تن تنہا خداوند متعال کی عبادتیں کی، مقصد رسالت کا تحقق بھی پیغمبر اسلام(ص) کی ایک دوسری خصوصیت ہے جس پر آپ تاکید کرتے تھے۔ مجلس اعلی اسلامی عراق کے صدر نے مزید کہا: رسالت الھی پر ایمان لانے کی کوشش، اور اصلاحات میں درجہ بندی تبلیغ حضرت محمد مصطفی (ص) کی خصوصیتوں میں سے ہے، پیغمبر اسلام(ص) ابتداء میں انفرادی تبلیغ کیا کرتے تھے اور پھر آپ نے اپنے خاندان والوں پر تبلیغ کا کام شروع کیا یہاں تک کہ یہ تبلیغ عالمی صورت اختیار کرگئی۔ انہوں نے پیغمبراسلام(ص) کو خطرات سے روبرو ہونا آپ کی دیگر خصوصیتوں میں سے شمار کرتے ہوئے کہا: پیغمبر اکرم(ص) تبلیغ رسالت الهی کی راہ میں بہت سارے الزامات سے روبرو ہوئے اور آپ پر سحر وجنون کا الزام لگایا گیا، اصلاحی پروجیکٹ کی جامعیت اور انسانوں کو ایک نگاہ سے دیکھنا آپ کی دیگر خصوصیتیں ہیں۔ حجت الاسلام حکیم نے اصلاحات کو معنوی مسئلہ بتاتے ہوئے تاکید کی: ھم معاشرے کی اصلاح میں پیغمبر اسلام(ص) کے میعاروں سے استفادہ کریں کیوں کہ دشمن کوشش میں ہے کہ مذھبی، مسلکی اور قبائلی بنیادوں پر ملت اسلامیہ کے درمیان تفرقہ اور اختلاف ڈال سکے۔ انہوں نے مذھبی اور نسلی تنوع کو خدا کی مرضی کے مطابق جانا اور کہا: مذھبی اور نسلی تنوع، تفرقہ کا سبب نہیں ہوسکتا بلکہ معاشرہ اس اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے کی شناخت کا سبب ہے، سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ مذھبی اور نسلی تنوع کو اختلاف اور مذھبی جنگ کے لئے استفادہ کیا جائے۔ انہوں نے اسلامی دنیا کی نئی تبدیلیوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: سوریہ میں تقریبا دوسال سے خون و خونریزی کا عالم ہے، اس ملک کی بحرانی صورت اور خون و خونریزی فقط گفتگو کے سہارے ختم ہوسکتی ہے اور سوریہ میں ثبات کی حکمرانی ہوسکتی ہے۔ مجلس اعلی اسلامی عراق کے صدر نے فلسطین کو ملت اسلامیہ کے اتحاد کا مرکز بتاتے ہوئے کہا: غزہ جنگ میں اسرائیلیوں پر فلسطینیوں کی پیروزی ان کی مزید حمایت کی ضرورت مند ہے۔
.......
/169